الۤرٰ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡـكِتٰبِ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ
ا ل ر، یہ آیتیں کتاب کی ہیں اور واضح قرآن کی
الۤرٰ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡـكِتٰبِ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ
ا ل ر، یہ آیتیں کتاب کی ہیں اور واضح قرآن کی
رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡ كَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ
ایسا وقت ہوگا (قیامت کے دن) کہ کافر چاہیں گے کاش ہوتے وہ مسلمان
ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ
چھوڑ دو انہیں کھائیں اور فائدہ اٹھائیں (کیوں کہ) غفلت میں ڈال রাখা ہے انہیں آرزوؤں نے، تو جلد ہی انہیں معلوم ہو جائے گا
وَمَاۤ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ
اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس کے لیے ایک مقرر وقت تھا
مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاْخِرُوۡنَ
نہ پہلے ہلاک ہوئی کوئی قوم اپنے وقت سے اور نہ ہی پیچھے
وَ قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الَّذِىۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؕ
اور ان (کفار مکہ) نے کہا اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے بیشک تو مجنوں ہے
لَوۡ مَا تَاۡتِيۡنَا بِالۡمَلٰۤٮِٕكَةِ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ
کیوں نہیں لاتے ہمارے پاس فرشتے اگر تم سچے ہو (تو فرشتے تصدیق کرتے تمہاری)
مَا نُنَزِّلُ الۡمَلٰۤٮِٕكَةَ اِلَّا بِالۡحَـقِّ وَمَا كَانُوۡۤا اِذًا مُّنۡظَرِيۡنَ
ہم نازل کرتے ہیں فرشتے حق (یعنی فیصلہ) کے لیے اور پھر انہیں مہلت نہیں دی جائے گی (کہ نہ مانیں اور زندہ رہیں)
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ
ہم نے نازل کی ہے یہ نصیحت (یعنی قرآن) اور بیشک ہم اس کے محافظ ہیں
وَلَـقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِىۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ
اور یقینا ہم بھیج چکے ہیں رسول تم سے پہلے بھی پہلی جماعتوں میں
وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ
اور جب آتا (پہلی جماعتوں میں) ان کے پاس کوئی رسول تو وہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے
كَذٰلِكَ نَسۡلُكُهٗ فِىۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَۙ
اسی طرح ہم ڈال دیتے ہیں مجرموں کے دلوں میں (مذاق اڑانا)
لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖۚ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ
نہیں ایمان لاتے یہ اس (قرآن) پر، اور گزر چکے ہیں پہلوں کے طریقے (یعنی ہلاکت کے واقعے)
وَلَوۡ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوۡا فِيۡهِ يَعۡرُجُوۡنَۙ
اور اگر ہم کھول دیں ان (کفار) پر دروازہ آسمان کا تو ہو جائیں اس میں چڑھنے والے
لَـقَالُوۡۤا اِنَّمَا سُكِّرَتۡ اَبۡصَارُنَا بَلۡ نَحۡنُ قَوۡمٌ مَّسۡحُوۡرُوۡنَ
پھر بھی یہ کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے، بلکہ ہم پر جادو کیا گیا ہے
وَلَـقَدۡ جَعَلۡنَا فِى السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَّزَيَّـنّٰهَا لِلنّٰظِرِيۡنَۙ
اور یقینا ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج (یعنی ستاروں اور فرشتوں کی گزرگاہ) اور ہم نے مزین کیا ہے اسے دیکھنے والوں کیلئے
وَحَفِظۡنٰهَا مِنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍۙ
اور ہم نے حفاظت کی ہے اس کی ہر شیطان مردود سے
اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ فَاَ تۡبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيۡنٌ
مگر جو کوئی (شیطان) چوری سے سننا چاہتا ہے تو پیچھا کرتا ہے اسکا دہکتا ہوا انگارہ
وَالۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا وَاَلۡقَيۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِىَ وَاَنۡۢبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ مَّوۡزُوۡنٍ
اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا ہے اور ڈال دیا ہے اس پر پہاڑ کو اور ہم نے اگائی ہے اس میں ہر چیز موزوں (یعنی مناسب) طریقے سے
وَجَعَلۡنَا لَـكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ وَمَنۡ لَّسۡتُمۡ لَهٗ بِرٰزِقِيۡنَ
اور ہم نے بنائے تمہارے لیے اس میں ذریعہء معاش (یعنی روزی) اور ان کیلئے بھی جنہیں تم روزی پہونچا نہیں سکتے (جنہیں تم نے دیکھا بھی نہیں)
وَاِنۡ مِّنۡ شَىۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآٮِٕنُهٗ وَمَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ
اور ہر چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں اور ہم نازل کرتے ہیں اسے طے کئے ہوئے مقدار میں
وَاَرۡسَلۡنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسۡقَيۡنٰكُمُوۡهُۚ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ لَهٗ بِخٰزِنِيۡنَ
اور ہم بھیجتے ہیں ہواؤں کو بھاری بادل کے ساتھ پھر ہم نازل کرتے ہیں آسمان سے پانی، پھر ہم پلاتے ہیں تمہیں اس (پانی) کو، اور نہیں ہے تمہارے پاس اس کا کوئی خزانہ
وَ اِنَّا لَــنَحۡنُ نُحۡىٖ وَنُمِيۡتُ وَنَحۡنُ الۡوٰرِثُوۡنَ
اور بیشک ہم ہی حیات اور موت دیتے ہیں، اور ہم ہی وارث (یعنی مالک) ہیں
وَلَـقَدۡ عَلِمۡنَا الۡمُسۡتَقۡدِمِيۡنَ مِنۡكُمۡ وَلَـقَدۡ عَلِمۡنَا الۡمُسۡتَـاْخِرِيۡنَ
اور یقینا ہمیں معلوم ہے تم میں سے اگلے (لوگ جو گزر گئے) اور یقینا ہمیں معلوم ہے تم میں سے پچھلے (لوگ قیامت تک کے)
وَاِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحۡشُرُهُمۡؕ اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ
اور بیشک تیرا رب ہی جمع کرے گا انہیں (قیامت کے دن) یقینا وہ حکمت والا جاننے والا ہے
وَلَـقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍۚ
اور یقینا ہم نے پیدا کیا انسان کو بجتی ہوئی (سوکھی) مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے تھی
وَالۡجَـآنَّ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ
اور جنوں کو ہم نے پیدا کیا اس (انسان) سے پہلے آگ کے شعلوں سے
وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰۤٮِٕكَةِ اِنِّىۡ خَالـِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ
اور جب کہا تمہارے رب نے فرشتوں سے کہ میں پیدا کرنے والا ہوں ایک بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے سے ہے
فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِىۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰجِدِيۡنَ
تو جب میں درست کرلوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی روح تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا
فَسَجَدَ الۡمَلٰۤٮِٕكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ
تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا (یعنی اللہ رب العزت کا حکم بجالایا)
اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰٓى اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِيۡنَ
مگر ابلیس نے انکار کیا کہ وہ ہو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ
قَالَ يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا لَـكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِيۡنَ
فرمایا اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو نہ ہوا سجدہ کرنے والوں کے ساتھ
قَالَ لَمۡ اَكُنۡ لِّاَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهٗ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ
(ابلیس نے) کہا میں اسلئے نہ ہوا سجدہ کرنے والا کسی بشر کو کہ تو نے پیدا کیا اسے بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے ہے
قَالَ فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌۙ
کہا تو نکل جا اس (آسمان) سے، بیشک تو مردود ہے
وَّاِنَّ عَلَيۡكَ اللَّعۡنَةَ اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ
اور بیشک تجھ پر لعنت ہے قیامت کے دن تک کے لئے
قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِىۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ
(ابلیس نے) کہا اے میرے رب! تو مہلت دے مجھے قیامت کے دن تک
قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ
(اللہ رب العزت نے) فرمایا بیشک تجھے مہلت دی گئی
اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ
ایک وقت معلوم کے دن (قیامت) تک
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِىۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَلَاُغۡوِيَـنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ
(ابلیس نے) کہا اے میرے رب! جیسا تو نے گمراہ کیا ہے مجھے میں ضرور مزین کرونگا ان کے لیے زمین میں اور میں ضرور گمراہ کروں گا ان سب کو
اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ
سوائے تیرے ان بندوں کے (جو) ان میں مخلص ہوں گے
قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَىَّ مُسۡتَقِيۡمٌ
(اللہ رب العزت نے) فرمایا یہ راستہ میرا ہے جو سیدھا ہے
اِنَّ عِبَادِىۡ لَـيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَـعَكَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ
بیشک میرے (مخلصین) بندوں پر تیرا کچھ زور نہیں چلے گا، مگر جو تیری اتباع کرے گا گمراہوں میں سے ہوگا
وَاِنَّ جَهَـنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ
اور بیشک ان (جیسے) سب کا وعدہ جہنم کا ہے
لَهَا سَبۡعَةُ اَبۡوَابٍؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنۡهُمۡ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ
اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے الگ الگ حصے ہیں
اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ فِىۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍؕ
بیشک متقی باغوں اور چشموں میں ہوں گے
اُدۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيۡنَ
(کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ ان (باغوں) میں سلامتی اور امن کے ساتھ
وَنَزَعۡنَا مَا فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ
اور ہم کھینچ نکالیں گے ان کے دلوں سے کینہ، سب بھائی بھائی ہوں گے، مسندوں پر آمنے سامنے ہوں گے
لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَـصَبٌ وَّمَا هُمۡ مِّنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ
نہیں پہونچے گی انہیں اس میں کوئی تکلیف اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے
نَبِّئۡ عِبَادِىۡۤ اَنِّىۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُۙ
متنبہ (یعنی اطلاع) کر دو میرے بندوں کو بےشک میں بخشنے والا مہربان ہوں
وَاَنَّ عَذَابِىۡ هُوَ الۡعَذَابُ الۡاَلِيۡمُ
اور بےشک میرا عذاب بھی دردناک عذاب ہے
وَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَۘ
اور متنبہ (یعنی اطلاع) کر دو ان کو ابراہیم کے مہمان (فرشتوں) کے بارے میں
اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًاؕ قَالَ اِنَّا مِنۡكُمۡ وَجِلُوۡنَ
جب داخل ہوئے اس کے پاس (فرشتے) تو سلام کیا (ابراہیم نے) کہا بیشک ہمیں تم سے ڈر لگ رہا ہے
قَالُوۡا لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ
(فرشتوں نے) کہا ڈرو مت بیشک ہم خوشخبری سناتے ہیں تمہیں ایک بچے کی جو بڑا جانکار ہوگا
قَالَ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِىۡ عَلٰٓى اَنۡ مَّسَّنِىَ الۡكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ
کہا کیا تم خوشخبری سناتے ہو مجھے، پہونچ گیا ہے مجھے بڑھاپا، تو تم کیسی خوشخبری سنا رہے ہو؟
قَالُوۡا بَشَّرۡنٰكَ بِالۡحَـقِّ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِيۡنَ
انہوں نے کہا ہم تمہیں خوشخبری سنا رہے ہیں حق (یعنی اللہ) کی جانب سے تو تم نہ ہو ناامید لوگوں میں
قَالَ وَمَنۡ يَّقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ
کہا اپنے رب کی رحمت سے نا امید تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں
قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ
(ابراہیم نے) کہا! تو کس مقصد سے آئے ہیں اے فرشتو؟
قَالُـوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَۙ
(فرشتوں نے) کہا ہم بھیجے گئے ہیں اس قوم کی طرف (جو) مجرم ہے
اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍؕ اِنَّا لَمُنَجُّوۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ
سوائے لوط کے گھر والوں کے، کہ ہم ان (کے گھر والوں) کو نجات دیں گے
اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ
سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہو گی
فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوۡطِ ۨالۡمُرۡسَلُوۡنَۙ
پھر جب آئے لوط کے گھر فرشتے
قَالَ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّنۡكَرُوۡنَ
(لوط نے) کہا آپ لوگ اجنبی معلوم پڑتے ہیں
قَالُوۡا بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ
(فرشتوں نے) کہا بلکہ ہم لے کر آئے ہیں تمہارے پاس وہ (عذاب) جس میں یہ شک کر رہے ہیں
وَ اَتَيۡنٰكَ بِالۡحَـقِّ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ
اور ہم آئے ہیں تمہارے پاس حق کی جانب سے اور ہم سچے ہیں
فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ وَاتَّبِعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡـتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ
تو نکلو اپنے گھرانے کے ساتھ اخیر میں رات کے، اور (اے لوط) تم ان کے پیچھے چلو اور نہ دیکھے مڑ کر تم میں سے کوئی، اور تم کر گزرو جو تمہیں حکم دیا جارہا ہے
وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰ لِكَ الۡاَمۡرَ اَنَّ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۤءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ
اور ہم نے فیصلہ کر لیا تھا ان کے لئے اس بات کا کہ بیشک ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی صبح ہوتے ہی (عذاب کے ذریعے)
وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡتَـبۡشِرُوۡنَ
اور آئے شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آپس میں
قَالَ اِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ ضَيۡفِىۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِۙ
(لوط نے) کہا یہ میرے مہمان ہیں تو تم مجھے ذلیل نہ کرو (ان کے سامنے)
وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ
اور ڈرو اللہ سے اور مجھے رسوا نہ کرو
قَالُـوۡۤا اَوَلَمۡ نَـنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ
انہوں نے کہا کیا ہم نے منع نہیں کیا ہے تمہیں دنیا (کی ہمدردی) سے
قَالَ هٰٓؤُلَاۤءِ بَنٰتِىۡۤ اِنۡ كُنۡـتُمۡ فٰعِلِيۡنَؕ
کہا یہ میری بیٹیاں ہیں اگر تمہیں کرنا ہی ہو (تو نکاح کرو)
لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِىۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ
تیری عمر کی قسم (اے نبی صلی اللہ) بیشک وہ اپنے نشے میں بہک رہے تھے
فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِيۡنَۙ
تو پکڑا انہیں چنگھاڑ (یعنی فرشتوں کی چیخ) نے دن نکلتے ہی
فَجَعَلۡنَا عَالِيـَهَا سَافِلَهَا وَ اَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍؕ
تو ہم نے بنا دیا ان (بستیوں) کے اونچے کو (۴۰۰ کلومیٹر) نیچا، اور ہم نے برسائے ان پر کنکریلے پتھر
اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ
بیشک اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں اہل بصیرت (یعنی دیکھ کر سبق لینے والوں) کے لیے
وَاِنَّهَا لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ
اور بیشک یہ (بستیاں ملک شام کی، اہل مکہ کے) راستے پر قائم ہیں
اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَؕ
بیشک اس میں نشانیاں ہیں مؤمنوں کے لیے
وَاِنۡ كَانَ اَصۡحٰبُ الۡاَيۡكَةِ لَظٰلِمِيۡنَۙ
اور جنگل میں رہنے والے (قوم شعیب) بھی ظالم تھے
فَانتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡۘ وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيۡنٍؕ
تو ہم نے انتقام لیا ان سے، اور یہ دونوں (بستیاں) کھلے راستہ پر واقع ہیں
وَلَـقَدۡ كَذَّبَ اَصۡحٰبُ الۡحِجۡرِ الۡمُرۡسَلِيۡنَۙ
اور بیشک جھٹلایا حجر والوں (یعنی صالح کی قوم ثمود) نے رسولوں کو
وَاٰتَيۡنٰهُمۡ اٰيٰتِنَا فَكَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَۙ
اور ہم نے دی تھیں انہیں اپنی نشانیاں، تو وہ ان سے اعراض کرتے تھے
وَكَانُوۡا يَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا اٰمِنِيۡنَ
اور وہ تراشتے تھے پہاڑوں کو گھر بنانے کے لئے آرام سے
فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِيۡنَۙ
تو پکڑا انہیں چنگھاڑ (یعنی فرشتوں کی چیخ) نے صبح کے وقت
فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَؕ
تو نہ فائدہ دیا انہیں وہ جو کچھ انہوں نے کمایا تھا
وَمَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَـقِّ ؕ وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ فَاصۡفَحِ الصَّفۡحَ الۡجَمِيۡلَ
اور ہم نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو برحق، اور بیشک قیامت آنے والی ہے تو تم ان (کفار مکہ) کو اچھی طرح معاف کردو
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡخَـلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ
بیشک تمہارا رب بہت بہتر پیدا کرنے والا خوب جاننے والا ہے
وَلَـقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَـثَانِىۡ وَالۡـقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ
اور یقینا ہم نے عطا کیں تمہیں سات آیتیں (سورہ فاتحہ جو نماز میں) دہرائی جاتی ہیں، اور عظمت والا قرآن دیا
لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡهُمۡ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ
اور تم مت پھیرو اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف جو ہم نے فائدہ اٹھانے دیا ہے ان (کافروں) کو مختلف قسم کے (دنیوی ساز و سامان سے) اور غم نہ کرو ان پر اور جھکا دو اپنا بازو ایمان والوں کیلئے (یعنی محبت کرو)
وَقُلۡ اِنِّىۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُۚ
اور کہہ دو بیشک میں ڈرانے والا ہوں کھلم کھلا
كَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَۙ
جیسا ہم نے نازل کیا (عذاب) تقسیم کرنیوالوں پر (یعنی کفار قریش پر)
الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡـقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ
جنہوں نے بنادیا ہے قرآن کو ٹکڑوں میں
فَوَرَبِّكَ لَـنَسۡــَٔلَـنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ
تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور سوال کریں گے ان سب سے
عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ
ان چیزوں کے بارے میں جو وہ کرتے تھے
فَاصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ
تو تم کھول کر سنا دو جو حکم دیا گیا ہے تمہیں اور اعراض کرو مشرکوں سے
اِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَۙ
بیشک ہم کافی ہیں تمہارے لئے مذاق اڑانے والوں کی طرف سے
الَّذِيۡنَ يَجۡعَلُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۚ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ
جو بناتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرا معبود تو عنقریب وہ جان لیں گے (اس کا انجام)
وَلَـقَدۡ نَـعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَۙ
اور یقینا ہم جانتے ہیں کہ تنگ ہوتا ہے تمہارا دل ان باتوں سے جو کہتے ہیں (کفار مکہ، جھوٹا، یا جادو گر وغیرہ)
فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَكُنۡ مِّنَ السّٰجِدِيۡنَۙ
تو تم تسبیح کرو حمد کے ساتھ اپنے رب کی، اور ہو جاؤ سجدہ کرنے والوں میں سے
وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَـقِيۡنُ
اور عبادت کرو اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے تمہیں یقین (یعنی موت)